اردو افسانے کا ارتقاء
افسانے کا تعارف:
افسانے کے لغوی معنیٰ "جھوٹی بات" کے ھیں۔ اردو ادب میں افسانا مختصر اور فرضی کہانی کو کہتے ہیں جس میں زیادہ تر زندگی کے کسی ایک پہلو کی مکمل عکاسی ہو اور پرہنے والا اسے ایک ہی نشست میں پرھ لے۔ افسانے کا بنیادی عنصر زندگی ھے افسانا نگار افسانے کے زریعے ایسا تاثر ابھارنے لگتا ھے کے پرھنے والع کو اسمے اپنا عکس نظر آنے لگتا ھے۔اور یوں مصرفیات کے اس دور مے کچھ وقت افسانے کو دے کر وہ زہنی فرسودگی ور اطمینان حاصل کرلیتا ہے۔
:ایڈگر ایلن کے مطابق
"یہ ایک نثری داستان ہے جسے پڑھنے میں آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے کا وقت لگے"
جے-اے-ہملٹن کے مطابق:
"تخیل کی مدد سے چند واقعات کو پیش کر کے کردار کے کسی ایک رخ کو نمایاں کردینے کا دوسرا نام افسانا ہے"
اردو افسانے کی ابتداء:
"یہ ایک نثری داستان ہے جسے پڑھنے میں آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے کا وقت لگے"
جے-اے-ہملٹن کے مطابق:
"تخیل کی مدد سے چند واقعات کو پیش کر کے کردار کے کسی ایک رخ کو نمایاں کردینے کا دوسرا نام افسانا ہے"
اردو افسانے کی ابتداء:
افسانے کی صنف اردو ادب میں انگریزی سے داخل ہوئ جہاں اسکی ایجاد کا سہرا امریکی ادیبوں کے سر ھے۔ اردو ادب میں تو ابتداء میں داستان نویسی کا دور تھا جس نے سترہویں صدی کے صنعتی انقلاب کے بعد ناول کا روپ دھاڑ لیا۔مگر جب وقت کی طنابیں سکڑ کر مختصر ہویں تو افسانا نگاری کے میدان مے اشحب قلم دورنے لگے۔ اردو ادب میں مولانا محمد حسین آزاد کی "نیرنگ خیال" اور ناصر علی کی "کہانیاں" دراصل افسانے کے قریب تر ھیں مگر اسکے بانی"منشی پریم چند" ہیں۔
:مختصر افسانے کی ابتداء
اردو میں مختصر افسانے کی ابتداء منشی پریم چند کے افسانے "دنیا کا سب سے انمول رتن" سے ہوی۔ جو ۱۹۰۵ میں شایع ہوا۔ یہ اردو افسانے کا نقطہ آغاز ہے۔پریم چند کے بعد افسانوں نے جو رخ اختیار کیا اسکا دامن اور بھی سکڑتا جارہا ہے۔
:ڈاکٹر فرمان فتح پوری کہتے ہیں
ان کے ہم عمروں میں کوی ایسا افسانا نگار نہی جسے تاریخ میں وہ مقام حاصل ہو جو منشی پریم چند کے حصے میں ۔ ۔آیا"۔ یہی ان کی عظمت کی دلیل ہے"۔
:افسانے کا پر بہار دور
منشی پریم چند کے بعد جو نام بڑی اہمیت کا حامل ھے وہ سجاد حیدر یلدرم کا ہے۔ اسکے علاوہ نیاز فتاح پوری اور سلطان حیدر جوش اردو کے ابتداٰی افسانا نگار ہیں۔ جنہوں نے اپنے کمالِ فن سے اردو افسانے کو جدید رنگ دیا۔
:پروفیسراحتشام حسین کہتے ہیں
یہ اردو افسانے کی خوش قسمتی تھی کے بہت اچھے فنکار اسے ابتداء میں ہی مل گۓ۔پریم چند سجاد حیدر یلدرم جنہوں نے اسے گھٹنوں چلنے سے بچالیا اورشروع ہی میں اسے جوان بنا کر پیش کردیا"۔
:تخیلی اور رمانوی افسانے
میر ناصر علی مرحوم نے چند تمثیلی کہانیاں لکھیں جو "چودھویں صدی" اور "صداۓ عام" میں شایع ہویں۔ سجاد حیدر یلدرم نے نے اردو افسانے کو فکر و فن کے اعنبار سے ایک نیا آہنگ بخشااور حقیقتوں اور تخیل کی آمیزش سے زندگی کا نیا رنگ تعمیر کیا۔ آپ نے رومانویت کو اپنے افسانون کا موضوع بنایا۔ نیاز فتح پوری اور مجنون گورکھپوری نے رومانوی روایت کا ننھا پودا پڑوان چڑھایا اور امتیاز علی؛کرشن چندر؛قرۃالعین حیدر اور مرزا ادیب کی تصنیف و تالیف سے ایک تنا آور درخت بن گیا۔
سجاد یلدرم کےافسانوں میں رومانویت بلکل مغربی طرز کی پیش کی گی یے کیونکہ وہ فطری طور پر مغرب جیسی آزادی کے حق میں تھے۔ "
:تراجم کا دور
میں اردو افسانے میں ایک بڑی تبدیلی رونماں ہوی۔افسانا نگروں نے امریکیَ فارسی روسی چینی عربی اور جاپانی زبانوں کے افسانوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ ابتدای تراجم کرنے والوں میں سب سے پیش پیش نیاز فتح پوریاور سجاد حیدر یلدرم ہیں۔
اردو میں ترقی پسندتحریک کا آغاز1936 میں منشی پریم چند کی زیرِصدارت لکھنوُ کے اجلاس سے ہوا۔اس تحریک کا مقصد ادب اور آرٹ کو رجعت پسندوں کے چنگل سے آزاد کروا کر عوام، کے قریب لانا تھا۔افسانوں کے مجموعے انگارے کی اشاعت اسی تحریک کی بدولت ہوی۔جس میں صرف 136 صفحوں پر چار ترقی پسند ادیبوں کی نو کہانیاں شامل ھیں۔کتاب کا نام احمد علح کے افسانے انگارے کے نام پر رکھا گیا۔اس کے افسانا نگاروں میں احمد علی ڈاکٹر رشید جہاں سجاد زبیر اور محمود ظفر شامل ہیں۔ ترقی پسند تحریک ایک تازیانہ تھی جس نے اردو افسانا نگاری کو ایک تیز رفتار انقلاب عطا کیا۔
:اردوافسانے زریں تریں دور
:افسانا تقسیمِ ہند کے بعد
تقسیمِ ہند کے بعداخلاقی اورمعاشرتی زندگی میں بگاڑ پیدا ہو گیا۔نقلِ وطن ہجرت کشت و خون اور زندگی و بربریت کا المیہ اس دور کے افسانوں کا نیا موضوع بنا۔ افسانے تعطل کا شکار ہوے۔ مگر ان حالات میں بھی ایسے افسانا نگار ضرور تھے جنہوں نے ان حالات میں بھی محبت اور انسانیت کا درس دیا۔ ان میں کرشن چندر عظمت چغتای سعادت حسن منٹو اور آحمد ندیم قاسمی شامل ہیں۔
:افسانا 1960سے تاحال
افسانے کا جو دور 1960 سے شروع ہوا وہ تاحال بڑی کامیابی سے جاری ہے۔ان میں انور سجاد حمید کاشمیری رضیہ فصیح احمداور قمر عباس وغیرہ نے شہرت پایئ۔ عہدِ جدید کے افسانا نگاروں نے معاشرتی تبدیلیوں کو بخوبی محسوس کیا اور اپنی کہانیوں میں انہے کمالِ فن سے شامل کیا۔ عہدِ جدید کے افسانا نگاروں میں مشرف احمد سلطان جمیل نسیم مظہرالسلام آصف فرخی اور علی رضا عابدی کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
:حرفِ آخر
غرض اردو افسانے کا جو سفر منشی پریم چند سے شروع ہوا تھا وہ تاحال بڑی کامیابی سے جاری ہے۔
ڈاکڑر ابوالیث صدیقی کے بقول
فنِ افسانا نگاری کا مستقبل بہت تابناک ہے"۔"
اردو میں مختصر افسانے کی ابتداء منشی پریم چند کے افسانے "دنیا کا سب سے انمول رتن" سے ہوی۔ جو ۱۹۰۵ میں شایع ہوا۔ یہ اردو افسانے کا نقطہ آغاز ہے۔پریم چند کے بعد افسانوں نے جو رخ اختیار کیا اسکا دامن اور بھی سکڑتا جارہا ہے۔
:ڈاکٹر فرمان فتح پوری کہتے ہیں
ان کے ہم عمروں میں کوی ایسا افسانا نگار نہی جسے تاریخ میں وہ مقام حاصل ہو جو منشی پریم چند کے حصے میں ۔ ۔آیا"۔ یہی ان کی عظمت کی دلیل ہے"۔
:افسانے کا پر بہار دور
منشی پریم چند کے بعد جو نام بڑی اہمیت کا حامل ھے وہ سجاد حیدر یلدرم کا ہے۔ اسکے علاوہ نیاز فتاح پوری اور سلطان حیدر جوش اردو کے ابتداٰی افسانا نگار ہیں۔ جنہوں نے اپنے کمالِ فن سے اردو افسانے کو جدید رنگ دیا۔
:پروفیسراحتشام حسین کہتے ہیں
یہ اردو افسانے کی خوش قسمتی تھی کے بہت اچھے فنکار اسے ابتداء میں ہی مل گۓ۔پریم چند سجاد حیدر یلدرم جنہوں نے اسے گھٹنوں چلنے سے بچالیا اورشروع ہی میں اسے جوان بنا کر پیش کردیا"۔
:تخیلی اور رمانوی افسانے
میر ناصر علی مرحوم نے چند تمثیلی کہانیاں لکھیں جو "چودھویں صدی" اور "صداۓ عام" میں شایع ہویں۔ سجاد حیدر یلدرم نے نے اردو افسانے کو فکر و فن کے اعنبار سے ایک نیا آہنگ بخشااور حقیقتوں اور تخیل کی آمیزش سے زندگی کا نیا رنگ تعمیر کیا۔ آپ نے رومانویت کو اپنے افسانون کا موضوع بنایا۔ نیاز فتح پوری اور مجنون گورکھپوری نے رومانوی روایت کا ننھا پودا پڑوان چڑھایا اور امتیاز علی؛کرشن چندر؛قرۃالعین حیدر اور مرزا ادیب کی تصنیف و تالیف سے ایک تنا آور درخت بن گیا۔
سجاد یلدرم کےافسانوں میں رومانویت بلکل مغربی طرز کی پیش کی گی یے کیونکہ وہ فطری طور پر مغرب جیسی آزادی کے حق میں تھے۔ "
:تراجم کا دور
میں اردو افسانے میں ایک بڑی تبدیلی رونماں ہوی۔افسانا نگروں نے امریکیَ فارسی روسی چینی عربی اور جاپانی زبانوں کے افسانوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ ابتدای تراجم کرنے والوں میں سب سے پیش پیش نیاز فتح پوریاور سجاد حیدر یلدرم ہیں۔
:ترقی پسند تحریک
:اردوافسانے زریں تریں دور
و1936 کے بعد اردو افسانا نگاری میں نۓ نۓ نام شامل ہوے اور افسانا نگاروں کی ایک نی پود ابھر کر سامنے آگیء میں کرشن چندر عظمت چغتایء راجندر سنگھ بیدی علی سردار جعفری اپندر ناتھ اشک ظہیر سجاد سعادت حسن منٹو اور حیات اللہ انصاری وغیرہ شامل ھیں۔زندگی کے حقاءق کی آینہ داری موضوع کا تنوع اسلوب کی جدت اور فکر و احساس کی تازگی اس دور کے افسانوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
:افسانا تقسیمِ ہند کے بعد
تقسیمِ ہند کے بعداخلاقی اورمعاشرتی زندگی میں بگاڑ پیدا ہو گیا۔نقلِ وطن ہجرت کشت و خون اور زندگی و بربریت کا المیہ اس دور کے افسانوں کا نیا موضوع بنا۔ افسانے تعطل کا شکار ہوے۔ مگر ان حالات میں بھی ایسے افسانا نگار ضرور تھے جنہوں نے ان حالات میں بھی محبت اور انسانیت کا درس دیا۔ ان میں کرشن چندر عظمت چغتای سعادت حسن منٹو اور آحمد ندیم قاسمی شامل ہیں۔
:افسانا 1960سے تاحال
افسانے کا جو دور 1960 سے شروع ہوا وہ تاحال بڑی کامیابی سے جاری ہے۔ان میں انور سجاد حمید کاشمیری رضیہ فصیح احمداور قمر عباس وغیرہ نے شہرت پایئ۔ عہدِ جدید کے افسانا نگاروں نے معاشرتی تبدیلیوں کو بخوبی محسوس کیا اور اپنی کہانیوں میں انہے کمالِ فن سے شامل کیا۔ عہدِ جدید کے افسانا نگاروں میں مشرف احمد سلطان جمیل نسیم مظہرالسلام آصف فرخی اور علی رضا عابدی کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
:حرفِ آخر
غرض اردو افسانے کا جو سفر منشی پریم چند سے شروع ہوا تھا وہ تاحال بڑی کامیابی سے جاری ہے۔
ڈاکڑر ابوالیث صدیقی کے بقول
فنِ افسانا نگاری کا مستقبل بہت تابناک ہے"۔"
Sign up here with your email
12 comments
Write commentsThanks Admin.......!!!!
ReplyUr notes were really helpful..... :-)
ReplyThis helped me a lot.
ReplyThis helped me a......lot.
ReplyI really like this
ReplyThank you so much
ReplyTuhaar behn ka choot
ReplyTuhaar qus main lund
ReplyAfsnvi ar ghair afsanvi nasar ka imtiazi osaf par note likhain.
ReplyPlz urdu k tahrko mn afasnu p ju kam huwa hn un ki mawozat p b notes mil jae tu bht acha huga
ReplyPless is ky hawalo ky bary mn bta dy k ye kaha sy le hn
ReplyJT Casinos - Hotel - JS Hub
ReplyJTG 계룡 출장안마 Casinos - Hotel 태백 출장샵 - JS Hub provides a convenient place to play your favorite casino games such 제천 출장안마 as slots, blackjack, video poker 제주 출장안마 and 과천 출장샵 bingo.
ConversionConversion EmoticonEmoticon